Tuesday, 14 April 2015

سعودی عرب اور پاکستان میں جنگ

 

 

سعودی عرب اور پاکستان میں جنگ

  

فیس بک پر ظاہر ہے کہ طرح طرح کی پوسٹیں پڑھنے کا موقع ملتا ہے. جن میں بعض پوسٹیں بے سر پیر کی ہوتی ہیں مگر پھر بھی لوگوں کی توجہ کھینچ لیتی ہیں. ابھی کچھ دن قبل مجھے ایک ایسی ہی پوسٹ میں ٹیگ کیا گیا، جس میں ایک صاحب نے یہ عالی مرتبت سوال اٹھایا کہ اگر کسی وقت سعودی عرب اور پاکستان میں جنگ چھڑ جائے تو آپ کس کا ساتھ دیں گے؟؟ .. میں اس احمقانہ سوال کو نظر انداز کرکے اسے بند کرنے ہی لگا تھا کہ پوسٹ پر آتے بیشمار کمنٹس اور وہاں برپا گرما گرم ماحول نے میری توجہ مبذول کرلی. کمنٹس دی...نے والوں میں مذہبی رجحان کے افراد بھی تھے اور مغربی فلسفوں کے متاثرین بھی. علماء بھی تھے اور عام عوام بھی. تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ان میں سے کچھ تو کہتے تھے کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اسلئے ہم ہر حال میں پاکستان کا ساتھ دیں گے. جبکہ کچھ اور افراد یہ لکھ رہے تھے کہ چونکہ سعودیہ مقدس مقامات کا حامل ہے لہذاٰ ہم ہر صورت سعودیہ کے ساتھ رہیں گے. مجھے وہاں ایک شخص بھی ایسا نہ نظر آیا جو یہ کہتا ہو کہ ہمیں صرف اس کا ساتھ دینا چاہیئے جو حق پر ہو. کسی نے یہ نہ لکھا کہ اسلام میں نہ وطن پرستی ساتھ دینے کا معیار ہے اور نہ ہی مذہبی و مسلکی وابستگی ! .. اسلام تو حق کا علمبردار بناتا ہے اور مظلوم کی پشت پناہی کا حکم دیتا ہے. ظالم اگر نام سے مسلم بھی ہوگا تب بھی اس کی گردن ماری جائے گی اور مظلوم اگر غیر مسلم بھی ہوگا تو اس کا ہر ممکن ساتھ دیا جائے گا. یہی قران کا پیغام ہے، یہی رسول (ص) کی تعلیم ہے اور یہی صحابہ کا عمل ہے
.
عظیم نامہ

Sunday, 12 April 2015

ہماری واحد ملکیت



ہماری واحد ملکیت


اگر آپ مجھے کچھ عرصہ استمعال کے لئے اپنی گاڑی عنایت کریں تو لازماً مجھ پر یہ ذمہ داری عائد ہوگی کہ میں اس امانت کی حفاظت اور صفائی ستھرائی کا مستقل اہتمام کرتا رہوں. مجھے یہ اجازت حاصل نہیں ہوگی کہ میں آپ کی اس دی ہوئی گاڑی کو فروخت کرسکوں یا اسے نقصان پہنچا سکوں. 
.
میں یہ بھی نہیں کرسکتا کہ میں کچھ دن بعد آپ کے پاس آؤں اور آپ کے ہاتھ میں چابی دے کر یہ بھڑک مارنے لگوں کہ یہ میری جانب سے آپ کیلئے قیمتی تحفہ ہے جو میں نے خاص آپ کیلئے لیا ہے. ظاہر ہے، ایسے میں آپ فوراً بتائیں گے کہ یہ گاڑی تو پہلے ہی آپ کی ملکیت ہے ، ساتھ ہی اس بات کا احساس دلائیں گے کہ مجھے اصولی طور پر آپ کا شکرگزار ہونا چاہیئے
.
اس مثال کو ذہن میں رکھیں اور سوچیں کہ ہماری جان اور مال سب ہمارے رب کا عطا کردہ ہے. جس طرح میں آپ کی دی ہوئی گاڑی کو اسکریچ نہیں لگا سکتا یا تباہ نہیں کرسکتا یا بیچ نہیں سکتا .. آپ بھی اپنے رب کی عطا کردہ جان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، غیر کواسکا مالک نہیں بنا سکتے اور اجازت کے بغیر اس کا خاتمہ نہیں کرسکتے. آپ پر یہ فرض ہے کہ اس زندگی کی امانت کا خیال رکھیں، اسے نعمت سمجھیں، اس کا عمدہ استمعال کریں. 
.
یاد رکھیں کہ ہم جو کچھ بھی اپنے رب کی راہ میں خرچ کرتے ہیں وہ دراصل پہلے ہی اسکی ملکیت ہوتا ہے. یہ اس کا کرم ہے کہ وہ اپنی ہی دی ہوئی چیزوں کو خرچ کرنے پر بھی ہمیں اجر دیتا ہے. وگرنہ مال، علم، وقت ، حتیٰ کے ہماری جان بھی پہلے سے اسی کی ملکیت ہے. جسے دے کر ہم اس کا حق ادا نہیں کرسکتے، بس اس کی امانت لوٹا سکتے ہیں. بقول غالب 
.
جان دی .. دی ہوئی اس کی تھی 
حق تو یہ ہے .. کہ حق ادا نہ ہوا 
.
گویا ہر شے جو آج ہمیں حاصل ہے وہ ہماری اصلاً ملکیت نہیں ہے ... مگر ہاں ! ایک چیزواقعی ایسی ہے جو عطا تو اسی کی ہے مگر اس کریم نے اسے ہماری ذاتی ملکیت بنا دیا ہے .. اور یہ واحد ذاتی ملکیت 'قوت ارادہ و اختیار' ہے جو ایک محدود درجہ میں انسان کو حاصل ہے. اگر رب سے دعویٰ محبت ہے اور اسکی راہ میں کچھ خرچ کرنے کا اشتیاق ہے تو اسکا بہترین مظہر یہی ہے کہ انسان اپنے ارادے کو اپنے رب کی مرضی کے سامنے سرنڈر کردے، اپنی آزادی اختیار کو اپنے محبوب کے سامنے بچھا دے ، اپنی مرضی کو اپنے رب کی مرضی پر نچھاور کردے ، یہی اسلام کے معنی ہیں اور یہی بندگی کا مقصود. 
.
====عظیم نامہ====

Tuesday, 7 April 2015

انسان کا فکری وجود


انسان کا فکری وجود



بکریوں کے ریوڑ کو آپ باآسانی سنبھال سکتے ہیں، پرندوں کے جھنڈ کو آپ بآسانی سدھا سکتے ہیں، شیروں کے غول کو آپ باآسانی کرتب کروا سکتے ہیں .. مگر حضرت انسان کے اذہان کو کسی ایک نقطہ پر مجتمع کرنا نہایت مشکل ہے. انسان کا شعوری وجود اسے دیگر حیوانات سے منفرد بنادیتا ہے. یہاں اگر ایک بقراط ہے تو دوسرا سقراط ، ایک ارسطو ہے تو دوسرا افلاطون، ایک ہیگل ہے تو دوسرا کارل مارکس، ایک ڈارون ہے تو دوسرا گوتم بدھ. یہاں ہر انسان کا ایک انفرادی فکری وجود ہے جو اپنا منفرد استدلال، سوالات اور نتائج رکھتا ہے. جنگ کے ذریعے آپ انسان قتل کر سکتے ہیں مگر ان کی فکر کو نہیں مار سکتے. اسکے لئے تو لازم ہے کہ آپ موجودہ فکر کے سامنے ایک برتر فکر کو آگے بڑھ کر دلائل کی روشنی میں پیش کریں. سابقہ رائج فکر پر علمی تنقید کریں اور پیش کردہ تازہ فکر پر تنقید کا شافی جواب دیں. یہی وہ مرحلہ ہے جہاں مخاطب شعوری طور پر آپ کے پیش کردہ مقدمہ کو قبول یا رد کرتا ہے اور یہی وہ منطقی نتیجہ ہے جو کسی انسانی جماعت کو ایک فکر پر مجتمع کردیتا ہے. 

.
====عظیم نامہ====

Wednesday, 1 April 2015

کیا ملک سے محبت شرک ہے؟

 

کیا ملک سے محبت شرک ہے؟
 

 
اگر کوئی شخص اپنے گھر جس میں اسکی پیدائش و پرورش ہوئی ہو ، محبت نہیں کرتا تو یقیناً اسے کوئی نفسیاتی عارضہ ہے. اپنے گھر سے محبت کرنا انسان کی فطرت میں داخل ہے اور اس سے انکارانسانی فطرت سے دوری ہے. اسی طرح اپنے محلہ، اپنے علاقے، اپنے شہر، اپنے ملک سے محبت کا پیدا ہوجانا عین فطری ہے. اسی رعایت سے عرض کرتا ہوں کہ اگر آپ کے دل میں اپنے ملک سے محبت نہیں ہے تو آپ نفسیاتی مریض ہیں. ہمارے مذہبی حلقوں میں معلوم نہیں کہاں سے یہ بات تقویت پاگ...ئی ہے کہ گویا ملک سے محبت کرنا شرک کرنے کے مترادف ہے. لاحول ولا قوت الا باللہ . اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کیلئے یہ احباب علامہ اقبال کے اس شعر کا سہارا لیتے ہیں:
.
ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیراہن ہے اس کا وہ مذھب کا کفن ہے
.
اول تو شاعری سے استدلال کی بنیاد نہیں رکھی جاتی. پھر اہل نظر جانتے ہیں کہ اقبال نے یہ شعر ہندو قوم اور دیگر اقوام کی اس ذہنیت کے پیش نظر کہا تھا کہ جس کے تحت ملک یا وطن کو خدائی کا درجہ دے دیا جاتا ہے. یعنی بات مذموم تب ہوگی جب یا تو ہندوؤں کے نظریہ کی طرح دھرتی کو اپنی خدا ماں کا درجہ دے دیا جائے یا پھر زبانی نہ بھی کہا جائے مگر عملی طور پر حق و باطل کا معیار وحی الہی کی جگہ وطن کی منافعت بن جائے. اگر علامہ ملک سے محبت کے قائل نہ ہوتے تو نہ اپنے اوائل دور میں ملی نغمے تحریر کرتے اور نہ ہی مسلمانوں کے لئے ایک نئی ریاست کا خواب دیکھتے.
.
بات کو سمجھیں .. وطن سے محبت ہرگز مذموم نہیں البتہ 'وطن پرستی' حرام ہے. پرستی لفظ پرستش سے وقوع پذیر ہوا ہے. یعنی جس کی پرستش کی جائے. ایسی پرستش والی محبت تو آپ اپنی اولاد سے بھی کریں گے تو حرام ٹہرے گی. لیکن کیا اس کو دلیل بنا کر اولاد سے محبت ترک کر دی جائے؟ سیرت نبوی صلی الله و الہے وسلم کا مطالعہ کریں، آپ (ص) نے اپنے صحابہ، اپنے گھر والوں، اپنے شہر مکہ، اپنے دوسرے شہر مدینہ، اپنے پیدا ہونے والے قبیلہ قریش .. سب سے محبت کی. اور کیوں نہ کرتے ؟ کہ ایسا کرنا تو عین انسانی فطرت ہے. صرف اور صرف یہ لحاظ ضروری ہے کہ کوئی بھی محبت چاہے وہ وطن کی ہو، اولاد کی ہوں، والدین کی ہو ، کاروبار کی ہو .. وہ الله اور اسکے رسول (ص) کی محبت پر غالب نہ آنے پائے . اگر ایسا نہیں ہے تو محبت کریں کہ محبت ہی دین کی روح ہے
.
 عظیم نامہ

غامدی صاحب - جوابی بیانیہ

 

غامدی صاحب - جوابی بیانیہ



غامدی صاحب کے جوابی بیانیہ پر مبنی حالیہ وڈیو کو ابھی ابھی سنا. پہلی بار ایسا لگا کہ غامدی صاحب اپنے سلجھے ہوئے لہجے سے بھی الجھی ہوئی بات نہیں سلجھا سکے. ایک سرکلر آرگیومنٹ ہے. ایک ضدم ضدی کی سی کیفیت ہے. ایک مبہم سا نقشہ ہے جس کے خدوخال حقیقی استدلال کی بجائے منطق کی دبیز چادر میں مدفون ہیں.
.
میرا اپنا المیہ یہ ہے کہ میں غامدی صاحب کے علمی قد کا معترف بھی ہوں اور ان کے پیش کردہ اعتراضات پر معترض بھی. شائد اسی لئے غامدی مخالف گروہوں کی خفگی کا باعث بھی ہوں اور غامدی حمایت...ی گروہوں میں راندہ درگاہ بھی.
.
اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں ، بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ہلاہل کو کبھی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کہہ نہ سکا قند
.

بہرحال کم سے کم اس امر پر مسرور ہوں کہ ایک زمانے بعد اہل علم کے درمیان علمی مکالمہ کی صورت نظر آئی ہے. جہاں تمام تر گرمی کے باوجود اخلاقیات کا دامن نہیں چھوڑا گیا ہے. اللہ پاک حق پر موافقت پیدا فرمادیں. آمین.
.
عظیم الرحمٰن عثمانی

PUSH or PULL ?

 

PUSH or PULL ?

 
بڑی سے بڑی آزمائش آجائے تو گھبرائیں نہیں ! .. بڑی سے بڑی حماقت کر بیٹھیں تو دل چھوٹا نہ کریں ! ... بس یہ یاد رکھیں کہ ٹھیک اسی وقت اور عین اسی لمحہ کوئی ذہین آدمی ہے جو پودینا سمجھ کر ہرا دھنیا خرید رہا ہے .. اور اس دروازے کو PUSH کررہا ہے جس پر صاف صاف PULL لکھا ہوا ہے ...


 
====عظیم نامہ====

دنیا کا مشاہدہ

 

 دنیا کا مشاہدہ

 
 
عزیزان من ! .. اس دنیا کا مشاہدہ یہی ہے کہ ..
.
آپ نے اس کے ساتھ اچھا کیا .. اور اس نے آپ کے ساتھ برا کیا ..
آپ نے اس کی مدد کی .. اور اس نے آپ کو تنہا چھوڑ دیا ..
آپ نے اسے سنبھالا .. اور اس نے آپ کو دھکا دیا ..
آپ نے اسے عزت دی .. اور اس نے آپ کو رسوا کیا ..
.
دیکھا آپ نے ؟ .. سوچا آپ نے ؟
.
معاملہ کبھی آپ کے اور اس کے درمیان تھا ہی نہیں ..
بلکہ معاملہ ہمیشہ آپ کے اور آپ کے رب کے درمیان تھا ..
.
اگر آپ اس پر ناراض ہیں کہ اس نے بدلہ میں آپ سے بھلائی کیوں نہ کی ؟ ..
تو آپ نے درحقیقت نیکی کبھی کی ہی نہیں تھی ..
آپ نے تو مخلوق سے 'بزنس ڈیل' کی تھی ..
اور مخلوق سے تو اکثر دھوکہ ملا کرتا ہے ..
اس دنیا کی تو سرشت میں دھوکہ ہے ..
ہمارا معاملہ تو اپنے رب سے ہے ..
.
یہ کیوں سوچتے ہو ؟ کہ وہ بہت برا ہے .. اسلئے میں اس سے اچھا نہیں کرسکتا ..
سوال یہ ہے کہ اگر وہ بہت اچھا ہوتا .. تو تمھارا اس سے اچھائی کرنے میں کیا کمال ہوتا؟ ..
.
ہمیں اسلئے اچھا نہیں ہونا کہ مخلوق ہم سے اچھی ہو ..
ہمیں اسلئے اچھا کرنا ہے .. کیونکہ ہم اچھے ہیں ..
.
ہمیں اس پودے کی مانند بننا ہے .. جس کا پھل سب کے لئے ہے ..
ہمیں اس درخت کی مثال اپنانی ہے .. جس کا سایا سب کے لئے ہے ..
ہمیں اس بارش جیسا بننا ہے .. جو سب پر یکساں برستی ہے ..
ہمیں اس سورج کی طرح چمکنا ہے .. جس کی روشنی سب کے لئے ہے ..
.
ہمیں ' سلم ' سے ' سلام ' کا سفر کرنا ہے ..
ہمیں ' مسلم ' بننا ہے ..
.



عظیم نامہ