Thursday, 5 March 2015

آپ سب مشرک ہیں ، کافر ہیں ، گستاخ رسول ہیں

 نوجوانی میں موسمی اسلام




آپ سب مشرک ہیں ، کافر ہیں ، گستاخ رسول ہیں ، معلوم نہیں کیوں میں آپ کے گھر پیدا ہوگیا .. " ہ " 
==========================================================
.
یہ کہتے ہوئے میری آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں، چہرہ غصہ سے سرخ تھا اور آواز میں کپکپاہٹ .. سامنے میرے والد اور بڑے بھائی خاموش بیٹھے سن رہے تھے.
.
میری عمر اس وقت سترہ اٹھارہ سال کی تھی. اس عمر میں جیسے اکثر نوجوانوں کو دین سے وقتی یا موسمی لگاؤ ہوجاتا ہے، اسی طرح میں بھی کچھ مہینوں سے اسی لگاؤ میں مبتلا تھا. ہر نماز مسجد جا کر ادا کرتا ، مجھے گھر میں کبھی فرقہ واریت نہیں سکھائی گئی تھی لہٰذا میرے نزدیک مسجد کا مطلب صرف مسجد ہی تھا. کون سا مسلک یا کون سے فرقہ کا سوال مسجد جاتے ہوئے مجھے کبھی پیش نہ آیا تھا. گھر سے نزدیکی مسجد اس مسلک کی تھی جس سے میرے گھرانے کا تعلق نہ تھا مگر جیسا میں نے بیان کیا کہ اس ضمن میں مجھے کبھی شدت نہیں سکھائی گئی تھی ، اسلئے میں بے دھڑک اسی مسجد میں اپنی نمازیں ادا کرتا. ایک روز مغرب کی نماز ختم کر کے باہر جانے لگا تو دیکھا کہ کچھ دینی بھائی حلقہ بنائے بیٹھے ہیں اور ایک بڑی داڑھی والے حضرت انہیں حدیث کی تعلیم کر رہے ہیں. میں بھی یہ سوچ کر ان کے حلقہ میں بیٹھ گیا کہ الله رسول کی باتیں سنوں گا اور اپنی اصلاح کروں گا. ان بھائیوں نے بھی بہت محبت سے جگہ دی. تعلیم شروع ہوئی اور کچھ دیر میں ختم ہوگئی. تعلیم کے بعد ان دعوت دینے والے حضرت نے مجھے کچھ اور نوجوانوں کے ساتھ روک لیا اور مزید دینی باتیں ہونے لگیں. باتوں باتوں میں انہوں نے میرے خاندانی مسلک کا نام لے کر بتایا کہ وہ لوگ کتنے بڑے گستاخ رسول ہیں. انہیں یہ گمان بھی نہیں تھا کہ میرا اپنا تعلق اسی مسلک سے ہے لہٰذا وہ کھل کر بولتے رہے. پھر یہ سلسلہ چل نکلا ، روز مغرب کی تعلیم کے بعد میرے خاندانی مسلک کی گمراہی سب کو سمجھائی جاتی اور ساتھ ہی احادیث بطور ثبوت پیش کی جاتیں. آھستہ آھستہ مجھے اس حقیقت سے نفرت ہونے لگی کہ میں اسی گمراہ مسلک سے وابستہ گھر میں کیوں پیدا ہوگیا ؟ .. سمجھ نہ آتا کہ کیا کروں ؟ ... ادھر میرے گھر میں والد اور بھائی دونوں میرے رویہ کی شدت اور تبدیلی کو بھانپ چکے تھے. اسی ازیت والے دنوں میں ایک روز میرے ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا، مسجد سے گھر آتے ہوئے زار زار روتا تھا ، یہ کہتا تھا کہ الله مجھے ایسے مسلک والے گھر میں کیوں پیدا کردیا ؟ مجھے معاف کردیں .. کافی دیر کے بعد آنسو پونچھے اور گھر پہنچا. گھر پہنچتے ہی والد صاحب نے نرمی سے کہا کہ عظیم مجھے تم سے کچھ ضروری بات کرنی ہے. میں چاہ کر بھی منع نہیں کرسکا اور خاموشی سے گردن ہلا دی. والد صاحب اور بڑے بھائی دونوں مجھے لے کر ڈرائنگ روم میں آگئے اور دروازہ بند کردیا گیا. یہ والد صاحب کا خاص طریق تھا کہ جب کسی سے اہم بات کرنا ہوتی تو ہمیشہ بند کمرے میں اکیلے کرتے یا صرف اسے ساتھ رکھتے جو اس گفتگو کا اہل ہو.
.
میں سنجیدہ پتھریلے چہرے کے ساتھ خاموش صوفہ پر بیٹھا تھا. سامنے والد اور بھائی دونوں براجمان تھے اور دونوں کے چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ تھی. بڑے بھائی نے خاموشی توڑی .. "عظیم ماشااللہ ، آج کل تو خوب عبادت ہورہی ہے ، درس میں بھی روز جاتے ہو .. کچھ ہمیں بھی سمجھاؤ" ہ
.
میں نے بہت چاہا کہ ضبط کر سکوں مگر پیمانہ اتنا بھرا ہوا تھا کہ اس سادہ سوال پر بھی پوری شدت سے چھلک پڑا. وہ والد جن کے سامنے کبھی اونچی آواز نہ ہوئی تھی ، آج اچانک وہ حجاب اٹھ گیا. میں نے ڈبڈبائی آنکھوں اور غم و غصہ سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا
.
" آپ سب مشرک ہیں ، کافر ہیں ، گستاخ رسول ہیں ، معلوم نہیں کیوں میں آپ کے گھر پیدا ہوگیا" ہ
.
حیرت انگیز طور پر میرے اس تلخ جملہ کا بھائی اور والد پر کوئی منفی اثر نہ ہوا بلکہ بھائی نے پوچھا کہ "اچھا اگر ایسا ہے تو ہمیں بھی بتاؤ تاکہ ہم بھی حق بات کو قبول کرلیں اور گمراہی سے بچ سکیں" ہ
.
اب میں نے ایک ایک کر کے ان تمام عقائد کا پوسٹ مارٹم شروع کیا جو میرے آبائی مسلک میں موجود تھے اور جن کے خلاف مجھے کئی مہینوں سے تعلیم دی گئی تھی. میں ساتھ ہی وہ احادیث بھی روانی سے بیان کرتا جن سے میرے مسلک کی گمراہی ثابت ہوتی تھی. والد اور بھائی دونوں بناء مجھے ٹوکے خاموشی سے پوری توجہ کے ساتھ سنتے رہے. یہاں تک کہ میں بول بول کر تھک گیا.
.
اب والد نے سوال کیا کہ "کیا کچھ اور بھی ہے جو کہنا چاہتے ہو؟" میں نے نفی میں گردن ہلا دی. والد پھر پیار سے مخاطب ہوئے کہ "عظیم اچھا یہ بتاؤ کہ یہ جتنی احادیث تم نے سنائی ہیں ، کیا وہ مستند ہیں؟" ... مجھے جھٹکا لگا ... "مستند سے کیا مراد ہے؟ .. یہ میرے پیارے رسول صلی اللہ و الہے وسلم کے اقوال ہیں" ہ
.
پوچھا "پھر بھی کتاب کا کچھ نام تو ہوگا؟" میں نے کہا "ہاں شاید گلزار مدینہ" .. اب والد اور بھائی نے پیار سے احادیث صحیحہ اور ضعیف و موضوع کا فرق بتانا شروع کیا، یہ بتایا کہ صحاح ستہ کا کیا مقام ہے اور بناء حوالوں کی مسلکی کتابوں میں درج احادیث کا کیا درجہ ہے؟ اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم کیوں علماء میں مقدم تسلیم ہوتی ہیں ؟ .. جب یہ بات کچھ سمجھ آنے لگی تو والد نے ایک ایک کر کے میرے اعتراضات کا جواب دینا شروع کیا ، وہ گاہے بگاہے قران اور صحیح احادیث کی طرف توجہ بھی دلاتے. میرے ذہن میں دھماکے ہورہے تھے. وہ نفرت اور استدلال جو کئی مہینوں سے میرے ذہن میں جگہ بنائے بیٹھا تھا ، وہ کسی ریت کی دیوار کی طرح ڈھ گیا تھا.
.
جب میں پوری طرح قائل ہوگیا تو والد نے پوچھا  کہ "ہاں بیٹا ! جو میں نے کہا ، تم اس سے متفق ہو ؟"  .. میں نے پورے اطمینان سے سر ہلا کر کہا کہ "صد فیصد" ..ہ
.
یہ سن کر والد نے ٹہرے ہوئے لہجہ میں کہا "لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم میری بات پر ایسے یقین نہ کرو ، دیکھو تم کچھ دیر پہلے  اس دینی حلقہ کے پوری طرح قائل تھے اور اب میری بات سے بھی پوری طرح متفق ہوگئے ہو، کیا ہو کہ کل کوئی تیسرا آئے جو ہم سے زیادہ بیان کی قوت رکھتا ہو اور تم اس کے بھی قائل ہو جاؤ ؟  .. اور پھر کیا معلوم کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟ یا میرا مقصد سچ نہیں بلکہ تمھیں خاندانی مسلک میں جکڑ کر رکھنا ہو ؟ یا پھر میرے نتائج ہی سرے سے غلط ہوں  ؟ " ہ
.
 میں بیچارگی سے والد اور بھائی کی جانب دیکھنے لگا جیسے خاموش آنکھوں سے پوچھ رہا ہوں کہ پھرآپ ہی بتا دیں کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے. والد نے میرے خیال کو بھانپتے ہوئے کہا " بیٹا تمھیں چاہیئے کہ تحقیق کرو، قران حکیم پڑھو ، صحیح بخاری و مسلم کو ازخود دیکھو ، اس پر فیصلہ نہ کرو کہ وہ دینی بھائی کیا کہہ رہے تھے یا تمہارے والد کیا کہہ رہے ہیں، .. بلکہ تحقیق کے رستے سے سچائی کو پاؤ" ہ
.
یہ وہ پہلا بیج تھا جو جانے انجانے میرے والد اور بھائی نے مجھ میں بودیا تھا. وہ چاہتے تو اس دن مجھے اپنی مرضی کے قالب میں ڈھال سکتے تھے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر اسے میرے لئے پسند نہیں کیا. اس نصیحت کا میں حق تو ادا نہیں     کرسکا مگر ہاں آگے چل کر میرا طریق یہی تحققیق بنا ہے جو ایک طالبعلمانہ انداز میں انشااللہ ہمیشہ جاری رہے گی. مجھ پر بعد کی زندگی میں واضح ہوگیا کہ نوجوان اذہان کی اس طرز پر برین واشنگ کسی ایک مسلک کی میراث نہیں بلکہ ہر مسلک و فرقہ اس دوڑ میں آگے آگے ہے. دیوبندی ، بریلوی، سنی، شیعہ کی کوئی تخصیص نہیں. آج میں خود کو صرف مسلم کہنے پر اکتفاء کرتا ہوں، تمام مسالک کے اہل علم سے استفادہ کرنے کا قائل ہوں اور کسی طور اپنی شناخت کے ساتھ کسی فرقہ  کا لیبل لگانے کو آمادہ نہیں
.
====عظیم نامہ====
.

نوٹ: یہ ایک سچا واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش آیا مگرلمبا وقت گزرنے کی وجہ سے الفاظ میں کمی بیشی کا بھرپور احتمال ہے، اس پر اللہ پاک سے معافی کا خواستگار ہوں ، نیز یہ کہ اسے ہرگز کسی مسلک کی پبلسٹی یا مخالفت نہ سمجھا جائے بلکہ جیسا میں نے درج کیا کہ یہ طریقہ واردات ہر مسلک نے ہی اپنا رکھا ہے ہ

Friday, 13 February 2015

اسلامی دنیا کے فلسفی

 
اسلامی دنیا کے فلسفی  




اسلامی دنیا کا پہلا فلسفی اور سائنسدان جس شخص کو قرار دیا جاتا ہے، اسکا علمی نام 'ایران شہری' تھا اور وہ ایران کا رہنے والا تھا. افسوس کے اسکا کوئی بھی فکری کام ہم تک نہ پہنچ پایا لہٰذا یہ دعویٰ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ فلسفہ اسلام کا حقیقی بانی تھا. نتیجہ یہ ہے کہ پہلے اسلامی فلسفی کا خطاب ابویعقوب الکندی سے منسوب کیا جاتا ہے. الکندی مشائی فلسفے کا بانی تھا اور 'فلسوف العرب' اسکا لقب ہے. الکندی کا فلسفہ افلاطون کی تعلیمات سے مخلوط ہو کر سامنے آتا ہے. الکندی سمیت اس مکتب کے تمام... علماء فلسفی بھی تھے اور سائنسدان بھی. لیکن یہ حقیقت ہے کہ الکندی کا فلسفہ کئی مقامات پر سائنس پر حاوی ہوجاتا ہے. اسکے برعکس البیرونی کے ہاں سائنس فلسفے پر حاوی ہے.

الکندی کے بعد جو قد آور فلسفی آیا وہ الفارابی ہے، اہل دانش اسے 'المعلم انسانی' کے نام سے پکارتے ہیں. الفارابی ارسطو کا شدید مقلد تھا اور اس نے اپنی زندگی زیادہ تر ارسطو کے فلسفہ کی شرح لکھنے میں گزاری. وہ کئی اور علماء کی طرح ارسطو اور افلاطون کی بیان کردہ تعلیم کو وحی الہی سے تعبیر کرتا ہے. الفارابی ریاضی دان، ماہر موسیقی، سائنسدان اور فلسفی کے طور پر معروف رہا.

الفارابی کے کچھ عرصے بعد ابن سینا ایک عظیم شخصیت کے طور پر ابھرے. مورخین ارسطو کو جہاں 'معلم اول' کہتے ہیں، وہاں ابن سینا کو 'المعلم الثانی' کا خطاب دیتے ہیں. ابن سینا کے والدین 'اسماعیلی' فلسفے سے متاثر تھے مگر ابن سینا ان سے متفق نہ ہوۓ. اس ظاہری اختلاف کے باوجود محسوس ہوتا ہے کہ ابن سینا کی سوچ پر 'اسماعیلی' توجیہات کا غلبہ رہا. دوسری جانب وہ الفارابی کی طرح ارسطو کا مقلد تو نہ تھا مگر اس سے متاثر ضرور تھا. مغربی تحقیق نگاروں کی طرح ابن تیمیہ نے بھی ابن سینا کو ایک ایسا فلسفی کہا ہے جس نے محض تقلید نہیں کی بلکہ اسماعیلی نظریات اور ارسطو و افلاطون کے فلسفوں کو مدغم کرکے اپنا ایک مستقل نظام فکر پیش کیا
====عظیم نامہ====

حضرت ابوبکر رض کی نصیحت

حضرت ابوبکر رض کی نصیحت 

حضرت ابوبکر رض نے خلافت منتقل کرنے سے قبل حضرت عمر رض کو چند نصیحتیں کیں. ان میں سے ایک اہم ہدایت یہ بھی تھی کہ نفل اعمال کو کبھی فرائض پر ترجیح نہ دینا. آپ کی یہ نصیحت محض عبادات کے لئے نہیں تھی بلکے ان حکومتی اور انتظامی امور و معاملات کا احاطہ بھی کرتی تھی جو آگے چل کر نئے خلیفہ کو پیش آنے تھے. ہماری زندگیوں میں بھی اکثر یہ المیہ درپیش ہوتا ہے کہ آپ نفل اعمال کی چاہ میں فرائض سے غفلت برت جاتے ہیں. شیخ کے پاؤں دابے جارہے ہیں اور والدین کے لئے وقت ہی نہیں. مسجدوں میں ایرانی قالین بچھا رہے ہیں اور پڑوسی بھوکا سو رہا ہے. فیس بک پر دینی مذاکرے ہورہے ہیں اور صلات کا کوئی ہوش نہیں. ہم اکثر ترجیحات کی تقسیم میں غلطی کر جاتے ہیں. مومن کی اولین ترجیح اپنے رب کا عرفان ہے. اگر ہم حقیقت میں الله کو اپنی ترجیح اول بنالیں تو بس سمجھیں بیڑا پار ہوگیا !
.
 ====عظیم نامہ====

ایمان باالغیب

ایمان باالغیب


ایمان باالغیب اس یقین کا نام ہے جو مشاہدے کے زریعے نہیں بلکہ غوروفکر کے نتیجے میں جڑ پکڑتا ہے. سالک دلائل کا تقابلی موازنہ کرکے ، ایک شعوری سفر کے زریعے کسی شے کے بارے میں علمی راۓ قائم کرتا ہے. یہ راۓ کیونکہ تدبر کا نتیجہ ہوتی ہے اسلیے سالک کو ایک خاص قلبی و ذہنی سکون فراہم کرتی ہے. آسان الفاظ میں کہیں تو صاحب ایمان اس پر پوری طرح قائل ہوجاتا ہے. اب دیانت کا تقاضا یہی ہے کہ اسکا عمل بھی اسکے ایمان کا عکس بن جاۓ ورنہ ایسا ایمان ہوکر بھی کوئی حقیقی معنی نہیں رکھتا . اگر وہ ایسا کرتا ہے تو ایمان دار کہلاتا ہے اور نہیں کرتا تو بے ایمان قرار پاتا ہے. یہاں یہ وضاحت دوبارہ کردوں کہ کہ دین کی اس مشہور اصطلاح "ایمان بالغیب" کے معنی بناء دیکھے ایمان لانا ہے، بناء سمجھے ہرگز نہیں.
.
====عظیم نامہ====

انٹرویو اور وہ الله کا بندہ

 انٹرویو اور وہ الله کا بندہ

کچھ عرصہ سے میری کمپنی ایک کمپیوٹر ایکسپرٹ کو تلاش کر رہی ہے مگر سخت معیار ہونے کی وجہ سے انٹرویو پر انٹرویو ہوتے رہے لیکن کوئی امیدوار کامیاب نہیں ہوسکا. کچھ دن پہلے میں نے امیدواروں کے بائیو ڈیٹا کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان میں سے زیادہ تجربہ یافتہ افراد کو انٹرویو کیلئے بلا لیا. ان ہی بائیو ڈیٹا کی چھان بین میں ایک ایسا امیدوار بھی نظر میں آیا جس کا تعلق پرتگال سے تھا. اس شخص کے پاس تجربہ اور تعلیم نسبتاً کم تھی. بظاہر ایسی کوئی خاص وجہ نہ تھی کہ اسے انٹرویو پر بلایا جائے مگر ایک بات جو حیرت انگیز تھی وہ یہ کہ اس بائیو ڈیٹا میں بلا کی سچائی سے کام لیا گیا تھا. وہ باتیں جن کا اعتراف کرنا بیوقوفی سمجھا جاتا ہے ، اس شخص نے اسے کھل کر بیان کردیا تھا. سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہ شخص سچا ہے یا بیوقوف ؟ میں نے اپنے مینجر اور ایک سینئر کو یہ بائیو ڈیٹا دکھایا تو ان کا بھی یہی حال ہوا. خیر اسی مخمصے میں ہم نے اسے بھی بلانے کا فیصلہ کرلیا.
.
آج انٹرویو کا دن تھا ، جب اس شخص کی باری آئی تو یہ دیکھ کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ وہ ایک مسلم تھا. گو کے اسکے نام سے یہ ظاہر نہ ہوا تھا. چہرے پر ہلکی داڑھی ، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور ماتھے پر نماز کا نشان. پہلی نظر پڑھی تو اس کے لبوں کو ہلتا دیکھا، ایک لمحہ میں سمجھ گیا کہ یہ تسبیحات پڑھ رہا ہے. خیر جناب مجھ سمیت تین افراد نے اس کا انٹرویو شروع کیا (بقیہ دونوں انگریز تھے) ، وہی سچائی جو اس کے بائیو ڈیٹا پر نمایاں تھی آج سامنے مجسم ہو گئی تھی. وہ باتیں جن میں وہ باآسانی جھوٹ بول کر یا بات گھما کر متاثر کرسکتا تھا، اس نے خالص سچ کو مسکرا کر کہہ دیا. صاف محسوس ہو رہا تھا کہ اس انسان کیلئے سچ بولنا .. نوکری حاصل کرنے سے کہیں زیادہ اہم ہے. ایک گھنٹے کے انٹرویو کے بعد ہم تینوں نے بیک وقت ایک آواز ہو کر یہ تبصرہ کیا کہ یہ کتنا سچا آدمی ہے ! اسکی سچائی کا ایسا اثر دل پر ہوا کہ ہم سب کا فیصلہ اس کے حق میں نکلا اور وہ نوکری جس میں اس سے کہیں زیادہ چالاک و تجربہ کار لوگ کامیاب نہ ہوسکے تھے ، وہ اسے حاصل ہوگئی. آج لاجک فیل ہوتے آنکھوں سے دیکھی، جھوٹ کو پھانسی پر چڑھتا دیکھا اور حق کا رستہ غیب سے بنتا نظر آیا. بس اب انتظار ہے کہ اس الله کے بندے کے ساتھ مل کر میں کام کر سکوں اور انشااللہ اس سے سیکھ سکوں. سبحان الله وبحمدہ سبحان اللہ العظیم


.
====عظیم نامہ====

Sunday, 8 February 2015

سیکھنے کا نسخہ


سیکھنے  کا نسخہ


سیکھنے کی استعداد ازخود بڑھ جاتی ہے جب انسان اپنی سننے کی صلاحیت میں اضافہ کردے. میری مراد یہ نہیں ہے کہ آپ شخصیت پرستی اختیار کرکے ، مخاطب کے ہر قول پر آمننا صدقنا کے مصداق ایمان لےآئیں .. مگر خاموشی سے مخاطب کی بات سنتے رہنا اور اسکے کہے پر کھلے ذہن سے غور کرکے کسی نتیجے کو اخذ کرنا، لازمی طور پر ہماری شخصی تربیت میں معاون ثابت ہوتا ہے. میں دیانتداری سے اعتراف کرتا ہوں کہ جب تک میں خاموشی سے مختلف مکاتب کو سنتا رہا، میرے سیکھنے کا عمل تیز سے تیزتر ہوتا گیا. لیکن جب سے بولنا شروع کردیا تو سیکھنے کی استعداد کم سے کمتر ہوگئی. بولنا اہم ہے مگر سننا اس سے دگنا اہم ہے. الله نے ہمیں ایک منہ اور دو کانوں سے نوازا ہے، ہمیں انکا استمعال بھی اسی تناسب سے کرنا چاہیے.


====عظیم نامہ====

کیا آپ بھی نفسیاتی مریض تو نہیں ؟



کیا آپ بھی نفسیاتی مریض تو نہیں ؟


کچھ لوگ ذہنی طور پر مفلوج پیدا ہوتے ہیں یا پھر کسی حادثے میں ذہنی مفلوج ہو جاتے ہیں. یہ ذہنی کمزوری انکے چہرے پر نظر آنے لگتی ہے. ہم بعض اوقات ان سے خوف کھاتے ہیں اور انہیں عرف عام میں پاگل کہتے ہیں. یہ درحقیقت ایسے خطرناک نہیں ہوتے بلکہ ہماری اضافی توجہ کے مستحق ہوتے ہیں. ایک دوسری طرح کے ذہنی بیمار بھی ہوتے ہیں، یہ شکل سے بلکل پاگل نظر نہیں آتے بلکے اکثر علم و شرافت کا لبادہ بھی اوڑھے ہوتے ہیں. ان کے لئے لفظ پاگل نہیں بولا جاتا، بلکہ 'نفسیاتی' کی اصطلاح اختیار کی جاتی ہے. اصل خطرناک یہ نفسیاتی ہوتے ہیں. ان کا المیہ یہ ہے کہ یہ اپنی بیماری کو بیماری نہیں سمجھتے اور نتیجے میں کسی علاج کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے. دنیا سے بھی یہ اکثر اپنی اس ذہنی بیماری کو ظاہری رکھ رکھاؤ سے چھپا لینے میں کامیاب رہتے ہیں. صرف وہ ہی افراد انکی بیماری سے آگاہ ہوتے ہیں جو انکا شکار ہوۓ ہوتے ہیں. ایسی مثالیں آپ کو اپنے عزیز و اقارب سے لیکر فیس بک کی اس دنیا تک بکثرت مل سکتی ہیں. ضروری ہے کہ ہم سب اپنا جائزہ لیتے ہوۓ دوسرے کی راۓ کو اہمیت دیں اور دیکھیں کہ کہیں ہم بھی تو نفسیاتی نہیں

====عظیم نامہ====