Friday, 6 February 2015

قرانی عربی اور اردو کا فرق



قرانی عربی اور اردو کا فرق


اردو میں ایسے الفاظ کثرت سے موجود ہیں جو عربی سے مستعار لیے گئے ہیں. المیہ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک ہی لفظ دونوں زبانوں میں استمعال ہوتا ہے مگر معنی کے اعتبار سے زمین آسمان کا فرق رکھتا ہے. ایسے میں قاری اگر اس فرق کو ملحوظ نہ رکھے تو باآسانی غلط نتائج اخذ کرلیتا ہے. مثال کے طور پر اردو میں لفظ 'فتنہ' ایک منفی اثر رکھتا ہے اور کسی فسادی عنصر کیلئے استمعال ہوتا ہے، اسکے برعکس عربی میں 'فتنہ' کے سادہ معنی امتحان کے ہیں، چنانچہ قران اولاد کو بھی آپ کیلئے فتنہ یعنی امتحان کہتا ہے. اردو میں لفظ 'جاہل' غیر تعلیم یافتہ شخص کو کہتے ہیں مگر عربی میں عالم کی ضد جاہل نہیں ہے بلکہ ایسی شخصیت ہے جسکی عقل پر جذبات و تعصب کا پردہ پڑا ہو. اردو میں لفظ 'ذلیل' ایک گالی کی طرح استمعال ہوتا ہے اور کسی کی شخصی کمینگی کو اجاگر کرتا ہے، مگر عربی میں 'ذلیل' کے معنی محض کمزور کے ہیں، لہٰذا ایک عربی یہ کہہ سکتا ہے کہ میرے والد ذلیل یعنی کمزور ہوگئے ہیں. 
.

====عظیم نامہ====

استغفار اور توبہ - دو جدا الفاظ


استغفار اور توبہ - دو جدا الفاظ


 

استغفار اور توبہ مماثل الفاظ نہیں ہیں. استغفار نام ہے اپنی غلطی، جرم یا گناہ کو قبول کرکے اظہار ندامت کرنے کا جبکہ توبہ نام ہے اس مظبوط ارادے کا، کہ اب اس غلطی یا گناہ کو دوبارہ نہ دہراؤں گا. سادہ الفاظ میں استغفار کے زریعے آپ اپنی غلطی کا اعتراف کرکے اسکی ذمےداری قبول کرتے ہیں اور توبہ کے راستے آپ اپنی اصلاح کا عہد کرتے ہیں.
.
===عظیم نامہ===

کیا آپ مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں؟


کیا آپ مساوی حقوق کی بات کرتے ہیں؟


میں خود کو مساوی حقوق کا مبلغ بنا کر پیش کرتا ہوں، انسانیت کا درس میری زبان سے ہمہ وقت جاری رہتا ہے .. لیکن کیا میں واقعی اس مساوات کا اطلاق اپنی شخصیت پر کرتا ہوں ؟ کیا فی الواقع میرا رویہ اپنے ملازمین اور ماتحت سے مساوی ہوتا ہے ؟ یا پھر حقیقت یہ ہے کہ میرا عمل صرف خطبے دینے تک محدود ہے ؟ کیا میرے گھر کا ملازم میرے ساتھ صوفے پر بیٹھ سکتا ہے، کھانا کھا سکتا ہے ؟ اگر نہیں تو جان لیں کہ سوٹ ٹائی پہن کر مساوی حقوق کی بڑی بڑی باتیں کرنا بہت آسان ہے، اور اس پر عمل خاصہ مشکل ! 

.
====عظیم نامہ====

جنت، جہنم یا پھر خالص الله سے محبت ؟


جنت سے محبت اور جہنم کا خوف یا پھر خالص الله سے محبت - کون سا طریقہ نجات کا ہے ؟




ایک صاحب کے تین بیٹے تھے، انہوں نے تینوں کو جمع کیا اور کہا کہ " بچوں ! میں چاہتا ہوں کہ تم خوب دل لگا کر پڑھو ، تم میں سے جو میری اس خواہش کو مان کر محنت کرے گا اور اچھے نمبروں سے پاس ہوگا .. اسے میں اسکی من پسند چیز دلاؤں گا اور اپنی جانب سے بھی بہت سا انعام دونگا. لیکن اگر تم میں سے کوئی دل لگا کر نہ پڑھے گا تو پھر اسکی سخت سزا پاۓ گا ! " .. اب ان تینوں میں سے پہلا بچہ اس لالچ میں پڑھتا ہے کہ پاس ہونے پر ڈھیروں انعام حاصل ہوگا، دوسرا بچہ اس خوف سے محنت کرتا ہے کہ پاس نہ ہوسکا تو بڑی مار پڑے گی اور تیسرا بچہ کہتا ہے کہ مجھےانعام کی لالچ یا سزا کے خوف سے کہیں زیادہ اپنے باپ کی خوشنودی درکار ہے.لہٰذا وہ صرف اسلیۓ پڑھتا ہے کہ وہ اپنے والد سے پیار کرتا ہے اور انکی بات نہیں ٹھکرا سکتا. جب نتیجہ آتا ہے تو کیونکہ تینوں نے دل لگا کر پڑھا ہوتا ہے، اسلیے سب پاس ہوجاتے ہیں اور اپنے باپ کی نظر میں کامیاب قرار پاتے ہیں. آپ یہاں یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ شائد تیسرا بیٹا بقیہ دو بیٹوں سے زیادہ اچھا تھا اور باپ اسے شائد سب سے زیادہ پیار کرے مگر اس تیسرے کی کامیابی سے باقی دو کی ناکامی ثابت نہیں ہوتی. یہی عالم انسان اور اسکے رب کا ہے. ہم میں سے کوئی جنت کی چاہ میں نیکی اختیار کرتا ہے، کوئی جہنم کے خوف سے تقویٰ اپناتا ہے اور کوئی بس اپنے رب سے ملاقات کی لگن میں پاکیزہ رہتا ہے. آخرت یعنی روز جزاء میں ان تینوں کے درجات میں تو فرق ہوسکتا ہے مگر کامیاب یہ تینوں طرح کے لوگ ہونگے. شرط بس یہ ہے کہ وہ اعمال اخلاص اور ٹھیک سمجھ پر مبنی ہوں.
.
====عظیم نامہ====

وہ نوجوان



وہ نوجوان

بیس بائیس سال کا ایک نوجوان ، اسے میں جب بھی مسجد میں دعا مانگتے دیکھتا تو حیرت و رشک سے کھڑا رہ جاتا. یوں لگتا ہے کہ جب وہ دعا کرتا ہے تو اسکی ہاٹ لائن سیدھی رب العالمین سے منسلک ہو جاتی ہے. وہ آنکھیں بند کیۓ ایک جگہ سمٹ کر ساکت بیٹھا، اپنے ہاتھ بلند کئے گم سم نا جانے اپنے بنانے والے سےکیا سرگوشیاں کیۓ جاتا ؟ لوگ آتے، نماز پڑھتے اور چلے جاتے ، اسکے ارتکاز اور توجہ میں مجال ہے کہ کوئی فرق پڑ جاۓ ؟. مجھ سے نہ رہا گیا تو ایک دن میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ وہ دعا کس اسلوب سے مانگتا ہے، کیا الفاظ استمعال کرتا ہے، کون سی خواہشوں کا تقاضہ کرتا ہے ؟ .. وہ پہلے ھچکچایا لیکن بار بار کے اصرار کے بعد آخراس نے مجھے اپنی پوری دعا سنائی. میں حیرت زدہ رہ گیا جب مجھے پتا چلا کہ میرے اس بھائی کی دعا کا ایک بہت بڑا حصہ کسی تقاضے یا مطالبے پر نہیں بلکے صرف خالص شکر پر مبنی ہے ! وہ ایک ایک نعمت جو اس کے ذہن میں آتی جاتی اسکا نام لیتا جاتا اور الله عزوجل کا شکریہ ادا کرتا جاتا. آج مجھے اس نوجوان لڑکے سے ایک بہت بڑی سیکھ ملی تھی اور وہ یہ کہ دعا صرف تقاضے کا نہیں بلکے ان بیشمار نعمتوں کے شکر کا بھی نام ہے جنہیں ہم اکثر اپنا حق سمجھ کر بیٹھے رہتے ہیں. اپنے رب سے اپنی ضرورتوں یا خواہشوں کو مانگنا غلط نہیں ہے مگر اسکی عطا کردہ نعمتوں کا صدق دل سے شکر کرنا، ہمیں اپنے خالق سے ایک زندہ تعلق و محبت فراہم کرتا ہے، جو از خود ایک بہت بڑی عطا ہے.

.
====عظیم نامہ=====

شکر ادا کیسے ہوتا ہے ؟



شکر ادا کیسے ہوتا ہے ؟




 فرض کریں کہ آپ کسی خوشی کے موقع پر مجھے پھولوں کا گلدستہ پیش کرتے ہیں. میں بھی سی مہذب 'جینٹل مین' کی طرح آپ کا گرمجوشی سے شکریہ ادا کرتا ہوں، مصافحہ کرتا ہوں، گلے لگاتا ہوں. مگر پھر آپ کے ہی سامنے اس گلدستے کو کچرے کی ٹوکری میں پھینک دیتا ہوں یا پھر اس گلدستہ سے جھاڑو لگانے لگتا ہوں. سوچیں آپ کے دل پر کیا گزرے گی ؟ کیا میرا وہ شکریہ ادا کرنا آپ کو اب ایک آنکھ بھی بھائے گا ؟ یا آپ مجھے ایک ایسا شخص سمجھیں گے جس نے تحفہ کی ذرا قدر نہ کی؟
.
بتانا یہ چاہتا ہوں کہ شکر صرف زبان سے ہی ادا نہیں کیا جاتا بلکہ اس تحفہ کا صحیح استمعال کرکے زبان حال سے بھی ادا کیا جاتا ہے. اگر یہ دوسرا حصہ موجود نہ ہو تو پھر زبانی کلامی شکریہ ایک مصنوعی ڈھکوسلے سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا. رب کی شکر گزاری بھی یہی ہے کہ آپ لفظی الحمد الله کہنے پر ہی اکتفا نہ کریں بلکہ اس صلاحیت یا نعمت کو جو آپ کو عطا کی گئی ہے درست سمت میں بھرپور استمعال کرکے عملی شکرگزاری کا نمونہ بن جائیں. اس سے یہ تاثر ہرگز نہ لیجئے کہ زبانی شکرگزاری اہم نہیں بلکہ یہ تو ہماری فطرت کا عین تقاضہ ہے. آپ ایک پیاسی بکری یا گائے کو پانی پلائیں تو وہ بھی ایک لمحہ کو برتن سے چہرہ اٹھا کر تشکر بھری نظر سے دیکھتی ہے. ہر سلیم الفطرت انسان بھلائی کرنے والے کا زبانی شکریہ ضرور ادا کرتا ہے. یہ فلسفہ عجیب ہے کہ رب کا شکریہ الفاظ سے ادا نہ کیا جائے بلکہ صرف اطاعت سے کیا جائے. جیسے اپنے پیار کرنے والے رشتوں کی بات ہم عملی طور پر بھی بجا لاتے ہیں اور ساتھ ہی زبانی طور پر بھی ان سے اظہار محبت کے الفاظ ادا کرتے ہیں. تسبیحات، اذکار، مناجات - یہ سب رب کی بیشمار نعمتوں کا زبانی شکر ادا کرنے کا طریق ہیں اور اپنے بنانے والے سے زندہ تعلق کا مظہر ہیں. اسی طرح یہ سمجھ بھی شدید ناقص ہے کہ شکر گزاری صرف الفاظ میں قید ہو کر رہ جائے اور عطا کردہ صلاحیت یا نعمت کو مثبت انداز میں بروئے کار نہ لایا جائے. جیسا کے میں نے پہلے ہی گلدستہ والی مثال سے واضح کیا. عقل و شعور کی نعمت کا شکر یہ ہے کہ اسے مثبت طور پر بھرپور استمعال کیا جائے، اگر خدا نے آپ کو صاحب قلم بنایا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ آپ کا قلم حق کی ترویج کا سبب ہو، اگر آپ کو کسی ٹیکنیکل صلاحیت سے مالا مال کیا گیا ہے تو اس کا شکر یہ ہے کہ آپ اسے بہترین طریق سے نہ صرف انجام دیں بلکہ اسکے ذریعے مخلوق کی بہتری کا سامان کریں. میری دعا ہے کہ الله پاک ہمیں شکر کو سمجھنے اور اسے اس کے دونوں پہلوؤں سے ادا کرنے والا بنائے آمین.
.
====عظیم نامہ====

مذہبی گالی


مذہبی گالی




ہر وہ لفظ گالی شمار ہوگا جس سے مخاطب کی تحقیر و تذلیل مقصود ہو. اگر آپ ایسا کوئی بھی لفظ ادا کرتے ہیں جس کے زریعے، سننے والے کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے، تو امکان ہے کہ اس پر گالی کا اطلاق ہو سکتا ہے. اگر اس تعریف کو سمجھ لیں تو معلوم ہوگا کہ گالی صرف وہ الفاظ نہیں ہیں جنہیں معاشرے میں گالی سمجھا جاتا ہے بلکے ایسے بہت سے الفاظ موجود ہیں جنہیں گالی کے طور پر ہم نے خود ایجاد کیا ہے. حد یہ ہے کہ ہم نے مذہبی گالیاں بھی ایجاد کر رکھی ہیں. وہ شیعہ کھٹمل ہے، یہ سنی دشمن اہل بیت ہے .. وہ وہابی نجدی کافر ہے، یہ قبر پرست صوفی ہے .. وہ دیوبند کی گند ہیں ، یہ حلوہ خور بریلوی ہیں ... وہ ہرے طوطے ہیں، یہ یہودی ایجنٹ ہیں. ایک لمبی فہرست ہے گالیوں کی جسے ادا کر کے ہم اپنے مخاطب کی تذلیل کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم دین کی خدمت کر رہے ہیں. وہ اسلام جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا تھا ، آج اسکے نام لیوابڑے فخر سے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو مذہبی گالیاں دیتے ہیں. 
.
====عظیم نامہ====