Friday, 6 February 2015

علمی تنقید کیا ہوتی ہے؟


علمی تنقید کیا ہوتی ہے؟





علمی تنقید وہاں ممکن ہوتی ہے جہاں آپ کو کسی محقق کی کسی بات سے اتفاق ہو اور کسی سے اختلاف. آپ جہاں اسکی کسی غلط تشریح پر دلائل سے تنقید کر سکتے ہوں تو وہاں آپ میں اتنی اخلاقی جرات بھی ہو کہ اپ اسی محقق کی کسی دوسری صحیح بات پر اسکی تعریف کر سکیں. وگرنہ یہ صرف دھوکہ ہے کہ آپ کی تنقید 'علمی' ہے. دوسرے کی تضحیک کرکے آپ اپنے نفس کو موٹا کرتے ہیں اور پھر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ 'نہی عن المنکر' کا فریضہ انجام پارہا ہے


.
====عظیم نامہ====

Monday, 2 February 2015

پیغام پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ



پیغام پہنچانے کا سب سے موثر طریقہ



کہانی سننا اور کہانی سنانا غالباﹰ تاریخ انسانی کا سب سے قدیم اور سب سے محبوب مشغلہ ہے. یہی وجہ ہے کہ افراد کی اکثریت کو اگر کوئی پیغام یا سوچ منتقل کرنی ہو تو کہانی سے موثر طریق دوسرا کوئی نہیں. شاعرانہ اسلوب گو کے پسند کیا جاتا ہے مگر اس سے پیغام اخذ کرنے والے بہت قلیل ہوتے ہیں. منطقی یا فلسفیانہ انداز کو تو اور بھی کم مخصوص طبیعتیں ہی سمجھ پاتی ہیں. غرض یہ کہ آپ کی اپنی طبیعت سے یہ حقیقت میل کھائے یا نہ کھائے، لیکن بھائی اگر عوام الناس میں تبدیلی لانی ہے تو پھر کہانی سنانی ہے.
 
 
.
====عظیم نامہ====

Sunday, 1 February 2015

توکل کیا ہے؟


توکل کیا ہے؟




توکل لفظ 'وکل' سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں خود کو سپرد کردینا یا مکمل بھروسہ کرنا. میری احقر رائے میں توکل کسی مولوی صاحب سے سیکھنے کے بجائے معصوم بچوں سے سیکھیں. مشاہدہ ہے کہ جب کسی بچے کو کوئی غیر انسان گود میں لینا چاہے تو وہ ڈر کر روتا ہے شور مچاتا ہے مگر جب اسی بچے کو اس کا باپ گود میں لے کر ہوا میں کئی فٹ اونچا اچھالتا ہے تو وہ ڈرنے کے بجاۓ خوشی سے قلقاریاں مارتا ہے اور اکثر دوبارہ اچھالنے کی فرمائش بھی کر ڈالتا ہے. وہ معصوم بچہ جانتا ہوتا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے اسکا باپ اسے زمین پر گرنے نہ دے گا. اس بچہ کا یہ اعتماد اور بھروسہ دراصل اپنے باپ پر اس کا توکل ہے. 
.
کافی سال پہلے میں ایک بڑے اسٹور میں مینجر تھا. وہاں اکثر میرا مشاہدہ ہوتا کہ کوئی ماں اپنے بچے کی مسلسل شرارت سے تنگ آکر اسے ڈانٹ رہی ہوتی یا اس کی پٹائی کر رہی ہوتی اور وہ بچہ ماں سے دور بھاگنے کی بجائے اپنی ماں سے اور زیادہ لپٹ جاتا. اسے کامل یقین ہوتا کہ آس پاس کے مسکراتے چہرے غیر ہیں، اجنبی ہیں اور اس کی ماں غصہ ہونے کے باوجود اسکی اپنی ہے. اسے اعتماد ہوتا کہ اسی ماں کے پاس اسے پناہ ملے گی. بندے کا توکل یہ ہے کہ رب کی اجازت سے اس پر کتنی ہی سختیاں کیوں نہ آئیں ، وہ مسلسل اپنے رب کی جانب رجوع کرتا رہے کہ اسکی پناہ صرف اپنے خالق کے پاس ہے. 
.
بابا بلھے شاہ اپنے ایک پنجابی کلام میں توکل کو بیان کرتے ہیں، میں اس کا اردو مفہوم درج کر رہا ہوں
.
بلھے شاہ دیکھو ! آسمانوں میں اڑتے پنچھی 
دیکھو تو سہی وہ کیا کرتے ہیں ؟
.
نہ وہ کرتے ہیں رزق ذخیرہ 
نہ وہ بھوکے مرتے ہیں 
.
کبھی کسی نے یہ پرندے، بھوکے مرتے دیکھے ہیں ؟
بندے ہی کرتے ہیں رزق ذخیرہ اور بندے ہی بھوکے مرتے ہیں 
.
ترمزی شریف کی ایک روایت کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ، رسول پاک صلی اللہ و الہے وسلم نے ایک بدو دیہاتی کو دیکھا کہ اس نے اپنے اونٹ کو کھونٹے سے نہیں باندھا اور کھلا چھوڑ دیا، آپ صلی اللہ و الہے وسلم نےدریافت کیا کہ کیوں نہیں باندھا ؟ بدو نے جواب دیا کہ میں اللہ پر توکل کرتا ہوں. آپ صلی اللہ و الہے وسلم نے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ پہلے اونٹ کو کھونٹے سے باندھو اور پھر الله پر توکل کرو. 
.
توکل سے مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ اپنے حصہ کا کام نہ کیا جائے. جس طرح ایمان کے ساتھ عمل لازم ہے ، بلکل اسی طرح توکل کے ساتھ تدبیر ضروری ہے.
.
====عظیم نامہ=====

Saturday, 31 January 2015

عوام کا اجتہاد اور تقلید


اجتہاد اور تقلید


آپ کہتے ہیں کہ علماء کو اجتہاد کرنا چاہیئے
میں کہتا ہوں کہ عوام کو بھی اجتہاد کرنا چاہیئے
.
آپ کہتے ہیں کہ عوام کے لئے اجتہاد کرنا جائز نہیں
میں کہتا ہوں کہ عوام کے لئے اجتہاد نہایت ضروری ہے
.
فرق بس اتنا ہے کہ عوام کا اجتہاد علماء کے اجتہاد سے یکسر مختلف ہے
.
 ایک عالم قران اور سنت سے براہ راست اجتہاد کر کے اپنی رائے پیش کرتا ہے. جبکہ عوام کا اجتہاد یہ ہے کہ وہ ان مجتہدین علماء کی آراء کا تقابلی جائزہ لے کر اس رائے کا انتخاب کریں جو انہیں قران اور سنت کی تعلیمات سے قریب تر محسوس ہوں 
.
ظاہر ہے کہ عوام سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ دین کے ہر حکم کے بارے میں تقابلی جائزہ لیتے رہیں مگر وہ احکام جن کے بارے میں ان کے ذہن میں کوئی ممکنہ اشکال پیدا ہوگیا ہو یا پھر وہ بنیادی نوعیت کے ہوں، تو پھر لازم ہے کہ وہ زحمت کرکے دوسرے  پیش کردہ استدلال کا بھی کتاب و سنت کی روشنی میں جائزہ لیں اورپھر نتیجہ اخذ کریں. اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو ان میں اور ان مشرکین مکہ میں کیا فرق باقی رہ جائے گا جو اپنے خاندانی مذھب اور استدلال کو اپنائے  رہے. جب انہیں تنبیہہ کی جاتیکہ ایسا نہ کرو تو ان کا جواب ہوتا
.
 (نتبع ما ألفينا عليه آباءنا (ہم تو اسی کی اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا 
.
قرآن مجید میں (سورۃالتوبہ آیت 31) میں اللہ تعالیٰ نے  نصاریٰ کےمتعلق یہ فرمایا ہے کہ انھوں نے عالموں اور زاہدوں کو اپنا خدا بنا لیا تھا، بخاری شریف میں رسول عربی صلی الله و الہے وسلم نے خدا بنا لینے کی تصریح  یوں کی ہے کہ ان کے علماء انھیں جو کچھ کہتے ، وہ اسے مان لیتے تھے چاہے وہ اللہ کے نازل کردہ واضح  کیا احکامات  کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ان کا اصرار صرف اس بات پر تھا کہ کیا تم ہمارے علماء سے زیادہ جانتے ہو؟ یا ہمارے آباء سے زیادہ زہین بن گئے ہو؟ حقیقت میں یہی وہ رویہ یعنی جمود تھا جو قبولِ حق میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ذرا غور کیجیے کہ اگر قرآن اس جمود کی مخالفت نہ کرتا  تو کیا ہمارے آباء و  اجداد ، یا ہم خود باطل مذہبی رہنماؤں کی پیروی میں رہتے ہوئے دینِ حق تک پہنچ سکتے تھے؟قرآن مجید نے  انسانی فکر سےاسی  جاہلانہ جمود کو ختم کرنے کے لیے غور و فکر کی دعوت  دی اور لوگوں (عوام) کے ذہنوں کو وسیع کیا۔
 یہ اعتراض اپنی صحت کے اعتبار سے لغو ہے کہ اسطرح ہر شخص اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگے گا. سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی خواہش نفس کو دین کے احکام پر ترجیح دیتا ہے تو وہ ہر صورت میں چاہے تقلید کرتا ہو یا نہ کرتا ہو ، اس غلط روش کو اپنائے رکھے گا. ایسے شخص کی تربیت کی جائے گی، اسے سمجھایا جائےگا کہ دین میں کسی رائے کو اختیار کرنے کا میعار خواہش نہیں بلکہ قران و سنت کا استدلال ہے. اب اگر پوری علمی دیانت کے باوجود یہ شخص غلطی کر بیٹھتا ہے اور نتیجہ میں اس رائے کو اپناتا ہے جو کمزور تھی تو پھر مندرجہ بالا حدیث اس پر بھی ایسے ہی صادق آ جائے گی جیسے کہ اس مجتہد پر جسکی رائے اس نے اختیار کی
.
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتہاد کرنے والے کے متعلق فرمایا :
.
إِذَا حَکَمَ الْحَاکِمُ فَاجْتَهَدَ ثُمَّ اَصَابَ، فَلَه أَجْرَانِ، وَإِذَا حَکَمَ فَاجْتَهَدُ ثُمَّ أَخْطَاءَ فَلَهُ أَجْرٌ.
.
جب کوئی فیصلہ کرنے والا فیصلہ دینے میں صحیح اجتہاد کرے تو اس کے لئے دو اجر ہیں، اور اگر اس نے اجتہاد میں غلطی کی تو اس کے لئے ایک اجر ہے۔
.
1. بخاری، الصحيح، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنه، باب أجر الحاکم إذا اجتهد فأصاب أو أخطأ، 6 : 2676، رقم : 6919
2. مسلم، الصحيح، کتاب الأقضية، باب بيان اجر الحاکم إذا اجتهد، فأصاب أو أخطا 3 : 1342، رقم : 1716

تقلید اپنی اصل میں بری نہیں بلکہ ایک احسن عمل ہے مگر اندھی تقلید کسی طور جائز نہیں. ہر شخص خواہ وہ عالم ہو یا جاہل ، کسی نہ کسی درجے میں مقلد ضرور ہے.معاملہ بگڑتا تب ہے جب کوئی اور بات قران و سنت سےواضح حق بن کر آپ کے سامنے آجائے اور آپ صرف اس وجہ سے اس سے چشم پوشی کرلیں کہ یہ آپ کے فرقہ، مسلک یا طبقہ فکر سے میل نہیں کھاتی
.
تقلید اور اندھی تقلید کو ایک سادہ مثال سے سمجھیں. فرض کریں کہ آپ کو پیٹ میں درد کی شدید شکایت ہوجاتی ہے اور آپ علاج کے لئے اپنے خاندانی معالج یعنی ڈاکٹر کے پاس تشریف لے جاتے ہیں. وہ آپ کا معائینہ کر کے آپ کو ایک دوا تجویز کر دیتا ہے. اب آپ اس سے یہ سوال نہیں کرتے کہ یہ دوا کیوں دی؟ یا اس کے اجزاء کیا کیا ہیں؟ یا اسکی جگہ کوئی اور دوا کیوں نہیں دے رہے؟ .. نہیں بلکہ آپ عمومی طور پر خاموشی سے وہ دوا لے لیتے ہیں اور بخوشی اسے نوش بھی کرتے ہیں. آپ کو اپنے خاندانی معالج کی تعلیم اور تجربہ پر قوی اعتماد ہوتا ہے لہٰذا آپ کے دل میں کوئی شکوک جنم نہیں لیتے. یہی تقلید ہے جو اپنے آپ میں ایک احسن عمل ہے. مگر کیا ہو ؟ کہ آپ کو اچانک معلوم پڑے کہ ایک دوسرا بہت بڑا ڈاکٹر یا ایک ڈاکٹروں کی تحقیقاتی رپورٹ یہ بتاتی ہے کہ اس دوا سے پیٹ کا درد تو شاید ٹھیک ہوجائے مگر گردہ خراب ہوجانے کا قوی امکان ہے. ایسی صورت میں اب آپ کیا کریں گے ؟ آپ کے پاس دو ہی راستے بچیں گے، پہلا یہ کہ آپ فرمائیں کہ کوئی بھی تحقیق چاہے کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو میرے لئے قابل غور نہیں ، کیونکہ میں تو بس اپنے خاندانی ڈاکٹر ہی سے علاج کرواتا  ہوں اور اسی کی رائے کو اپنائے رکھوں گا. اس بیوقوفانہ روش کو اندھی تقلید کہتے ہیں، جس میں عوام کی اکثریت مبتلا ہے. دوسرا راستہ یہ ہے کہ کیونکہ اب آپ کے سامنے دو علمی آراء موجود ہیں تو آپ دونوں کا تقابلی جائزہ لیں گے، ان کا مستند ہونا دیکھیں گے، ان کی صحت پر سوالات کریں گے، ہو سکتا ہے کچھ اور اہل علم سے بھی گفتگو کریں اور پھر اس سب کے بعد جب آپ کا ایک رائے پر اعتماد ہو جائے گا تو اس دوا کو لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کریں گے. اس عقلمندانہ روش کو میری زبان میں عوام کا اجتہاد یا احسن تقلید کہا جاتا ہے
.
واللہ و اعلم بلصواب
.
====عظیم نامہ====

Thursday, 15 January 2015

"پی - کے"


"پی - کے"



حال ہی میں بالی وڈ کی ایک مووی "پی - کے" کے نام سے ریلیز ہوئی. اس فلم میں مذھب کی جانب سے پیش کردہ فرسودہ عقائد کو تختہ مشق بنایا گیا اور ساتھ ہی مذھبی ٹھیکیداروں پر رانگ نمبر کہہ کر کڑی تنقید کی گئی. پیغام یہ تھا کہ جھوٹے خداءوں اور اس کے ٹھیکیداروں کو رانگ نمبر جان کر مسترد کردو اور حقیقی خدا کے رائٹ نمبر کو اپنا لو. دلچسپ بات یہ ہوئی کہ جہاں اسے مختلف مذاھب جیسے ھندوازم کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا. وہاں دو بڑے حلقوں سے اسے پذیرائی بھی حاصل ہوئی. پہلا حلقہ ملحدین کا ہے اور دوسرا روشن خیال مسلمانوں کا. ملحدین اس لئے بغلیں بجا رہے ہیں کیونکہ اس میں خداءوں کو رانگ نمبر کہہ کر انکا انکار کیا گیا اور مسلم اس لئے شادمان ہیں کہ اس میں رانگ نمبروں کو رد کرکے رائٹ نمبر یعنی حقیقی خدا کو ماننے کی ترغیب دی گئی ہے جو کے اسلام کا بنیادی پیغام ہے. یہ ایک بار پھر اسی حقیقت کا غماذ ہے کہ نظریاتی سطح پر آخری ٹکراءو انہی دو حلقوں کے بیچ ہونا ہے. افراد کی ایک تعداد اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہوگی اور دوسری تعداد الحاد کی چادر میں منہ چھپالےگی. یہی اصل حق و باطل کا معرکہ ہے. واللہ و عالم بلصواب

.
===== عظیم نامہ====

پارٹ ٹائم نیک


پارٹ ٹائم نیک 


ہم انسانوں کی اکثریت پارٹ ٹائم نیک بننا چاھتی ہے اور فل ٹائم نیک بننے سے خوفزدہ ہے. کتنے ہی ہیں جو اس ڈر سے حج کی کوشش نہیں کرتے کہ کہیں گناہ نہ چھوڑنے پڑ جائیں اور کتنے ہی ہیں جو اس خوف سے قران نہیں سمجھتے کہ کہیں سدھر نہ جائیں


.
====عظیم نامہ====


حقیقی موت کیا ہے؟



حقیقی موت کیا ہے؟




قران حکیم کے بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ موت سانس رکنے کا نہیں بلکہ قلب مردہ ہوجانے کا نام ہے. جو ذکر و فکر کرتا ہے اس کا قلب زندہ ہے یعنی اس کا وجود زندہ ہے، جو زکر و فکر سے غافل ہے اس کا قلب مردہ ہے یعنی وہ سانس لے کر بھی چلتا پھرتا مردہ ہے. 

.
====عظیم نامہ====